احباب متوجہ ہوں۔
اب تک کئی لوگ WhatsApp اور فیس بک میں ایک ہی میسج کر چکے ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہم یا تو انتہائی بیوقوف ہیں یا پھر اتنے جذباتیت کے مارے ہوئے کہ اب ہمیں ناموسِ رسالت ﷺ کی تکریم کا بھی صحیح اندازہ نہیں رہا۔۔
میسج یہ ہے۔
"یہ ویب سائٹ پہ دنیا کے مشہور دس نامور لوگوں کے لئے ووٹنگ شروع ہے۔۔
اس میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا بهی نام ہے. آپ لوگوں سے گذارش ہے کہ اس سائٹ کو جلد سے جلد کهولیں اور ووٹ کریں"
اگر عقل کے اندھے نہیں ہیں تو آئندہ کبھی ایسا میسج کسی کو مت فارورڈ کرنا۔
● نمبر 1۔ یہ کسی ہندو کی ویب سائیٹ ہے جسے آپریٹ کرنے والا ہندو یا کوئی بھی غیر مسلم ہے۔
● نمبر2 اس میں اکثریت نام ہندوؤں کے ہیں۔ اور لکھنے والے نے نبی اکرم ﷺ کا نام چھٹے نمبر پہ لکھا ہے پہلے نمبر پہ اپنے کسی دیوتا کا نام لکھا ہے۔
● نمبر3 اس فہرست میں گاندھی اور بھگت سنگھ جیسے لوگ بھی شامل ہیں۔
نعوذ باللہ اپ کا دل گوارہ کرتا ہے کیا کہ اپنے نبی ﷺ کا موازنہ گاندھی یا بھگت سنگھ جیسے لوگوں کے ساتھ ہوتا دیکھ سکو؟
● نمبر4 ہر ایک کلک پر اس ویب سائیٹ کے مالک کو پیسے ملیں گے۔ ہم کیسے مسلمان ہیں جو ناموس رسالت کو نظر انداز کر کے کسی غیر مسلم کا اکاؤنٹ بھر رہے ہیں؟
● نمبر 5 ان تمام لوگوں کی عقل پہ ایک لاکھ ایک لعنت جو یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے نبیؐ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عزت یا ناموری ان کے ووٹوں سے مشروط ہے۔
اللہ نے ورفعنا لک زکرک فرما کر جو عزت بڑھائی ہے تم اسے ووٹوں میں تولنے لگے ہو۔
● نمبر6. شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ ووٹنگ کے نام پر اپنے نبی ﷺ کا موازنہ عام دنیاوی انسانوں سے کر رہے ہو۔
● نمبر7 اس ویب سائیٹ میں دس لوگ نہیں ہیں درجنوں عام لوگ ہیں۔ جن کے ساتھ نعوذ باللہ یہ مسلمان اپنے نبیﷺ کی شہرت کا مقابلہ کر رہے ہیں..
اب تک کئی لوگ WhatsApp اور فیس بک میں ایک ہی میسج کر چکے ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہم یا تو انتہائی بیوقوف ہیں یا پھر اتنے جذباتیت کے مارے ہوئے کہ اب ہمیں ناموسِ رسالت ﷺ کی تکریم کا بھی صحیح اندازہ نہیں رہا۔۔
میسج یہ ہے۔
"یہ ویب سائٹ پہ دنیا کے مشہور دس نامور لوگوں کے لئے ووٹنگ شروع ہے۔۔
اس میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا بهی نام ہے. آپ لوگوں سے گذارش ہے کہ اس سائٹ کو جلد سے جلد کهولیں اور ووٹ کریں"
اگر عقل کے اندھے نہیں ہیں تو آئندہ کبھی ایسا میسج کسی کو مت فارورڈ کرنا۔
● نمبر 1۔ یہ کسی ہندو کی ویب سائیٹ ہے جسے آپریٹ کرنے والا ہندو یا کوئی بھی غیر مسلم ہے۔
● نمبر2 اس میں اکثریت نام ہندوؤں کے ہیں۔ اور لکھنے والے نے نبی اکرم ﷺ کا نام چھٹے نمبر پہ لکھا ہے پہلے نمبر پہ اپنے کسی دیوتا کا نام لکھا ہے۔
● نمبر3 اس فہرست میں گاندھی اور بھگت سنگھ جیسے لوگ بھی شامل ہیں۔
نعوذ باللہ اپ کا دل گوارہ کرتا ہے کیا کہ اپنے نبی ﷺ کا موازنہ گاندھی یا بھگت سنگھ جیسے لوگوں کے ساتھ ہوتا دیکھ سکو؟
● نمبر4 ہر ایک کلک پر اس ویب سائیٹ کے مالک کو پیسے ملیں گے۔ ہم کیسے مسلمان ہیں جو ناموس رسالت کو نظر انداز کر کے کسی غیر مسلم کا اکاؤنٹ بھر رہے ہیں؟
● نمبر 5 ان تمام لوگوں کی عقل پہ ایک لاکھ ایک لعنت جو یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے نبیؐ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عزت یا ناموری ان کے ووٹوں سے مشروط ہے۔
اللہ نے ورفعنا لک زکرک فرما کر جو عزت بڑھائی ہے تم اسے ووٹوں میں تولنے لگے ہو۔
● نمبر6. شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ ووٹنگ کے نام پر اپنے نبی ﷺ کا موازنہ عام دنیاوی انسانوں سے کر رہے ہو۔
● نمبر7 اس ویب سائیٹ میں دس لوگ نہیں ہیں درجنوں عام لوگ ہیں۔ جن کے ساتھ نعوذ باللہ یہ مسلمان اپنے نبیﷺ کی شہرت کا مقابلہ کر رہے ہیں..
No comments:
Post a Comment