20170912

حضرت عبداللہ شاہ غازی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

کراچی میں عبداللہ شاہ غازی علیہ رحمة کی 1288ویں سالانہ عرس کى 3 روزہ تقریبات کا آغاز 12،13،14 ستمبر سے ھوگا۔
 حضرت عبداللہ شاہ غازی (علیہ الرحمة‎) المعروف غازی بابا کراچی، سندھ، پاکستان کے نہایت معروف و برگزیدہ ولی اللہ مانے جاتے ہیں۔ آپ کا مزار کلفٹن، نزد قاسم باغ کراچی میں واقع ہے.

آپکا مذہب: اسلام، سنّی العقیدہ                                             شجرة : حضرت علی کرم اللہ وجہہ
 دیگر اسماء:  ابو محمد
لقب : الأشتر
پیدائش: 99ھ ؛المدینة المنورة،  شهادت : 151ھ.
مزار شريف : کلفٹن،کراچی.                  خطاب:شہنشاہِ کراچی،غازی بابا.                                          دور: خلافت عباسیہ                 مرتبہ:  ولیوں میں سب سے قدیم، دور تابعین کے ولی

 تفصیلی حالاتِ زندگی:
حضرت عبد ﷲشاہ غازی 98ھ میں حضرت محمد نفس ذکیہ علیہ الرحمة کے گھر مدینہ منورة میں پیدا ہوئے آپ کاسلسلہ نسب پانچویں پشت میں حضرت علی کرم ﷲوجہہ الکریم سے جاملتا ہے ۔آپ حسنی وحُسینی سادات میں سے ہیں۔ آپ کا شجرہ نسب اس طرح ھے۔
والد کی طرف سے حسنی ہیں۔ ابو محمد عبدﷲ الاشتر بن سید محمد نفس ذکیة بن سید محمد عبدﷲ بن سیدنا امام حسن مثنیٰ بن سیدنا امام حسن بن سیدنا حضرت علی مرتضیٰ کرمﷲوجہہ الکریم اورماں کی جانب حُسینی ہیں۔
حضرت سیدہ فاطمہ صغریٰ بنت حضرت امام حسین رضی ﷲ تعالیٰ عنہما کا نکاح حضرت امام حسن مثنیٰ سے ہوا تھا ۔آپ حضرت امام موسیٰ کاظم سے عمر میں تین سال بڑے اور اما م جعفر صادق سے عمر میں پندرہ سال چھوٹے تھے ،تلوار چلانے اور اونٹ سواری میں آپ کا ثانی نہیں تھا اس لئے آپ کو الاشتر یعنی اچھا اونٹ چلانے والا جو کہ آپ کے نام کاجز بن گیا ۔آپ کی تعلیم وتربیت آپ کے والد کے زیر سایہ ہوئی آپ علم حدیث میں مہارت رکھتے تھے اس لیے آپ کا محدثین میں بھی شمار کیا گیا۔آپ ’’میں علم کا شہر ہوں علی اس کا دروازہ ہیں ‘‘کے خانوادے کے روشن چراغ تھے آپ میں علم کے جوہر موجود تھے آپ علم کی تابانیوں سے عرش تافرش بقعہ نو ر تھے۔آپ کا تابعی ہونا بھی ممکنات میں سے ہے آپ کے زمانے میں کئی صحابہ کرام روئے زمین پر موجود اپنے علم کے نور بکھیر رہے تھے ۔ آپ کی پیدائش کا زمانہ بنو امیہ کی حکومت کا آخری دور تھا بنو امیہ کی 92سالہ حکومت زوال پذیر تھی 92سالہ دور حکومت سادات پر ظلم وجبر اور بربریت کا سخت دور تھا۔ اموی حکمراں اہل بیت اطہا ر کو اپنی حکمرانی کیلئے ہمیشہ خطرہ سمجھتے تھے ۔ہزاروں سادات شہید کئے گئے ۔ہزاروں جلا وطن کئے گئے۔ ہزاروں نے اپنے اعلیٰ نسب کو چھپا کر گم نامی کی زندگی گزاری الغرض بنو امیہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد 132ھ میں عبد ﷲ بن محمد سفاح پہلا عباسی حکمراں بنا بغداد عباسیوں کا دارالسلطنت بنا۔ عبدﷲ بن محمد سفاح کے انتقال کے بعد اس کا بھائی ابو جعفر عبد ﷲ،المعروف ابو جعفر منصور مسند اقتدار پر بیٹھا منصور نے اپنی حکومت جمانے اور لوگوں کے دلوں میں اپنی ہیبت بٹھانے کیلئے وہ مظالم کئے جو تاریخ کے خونی اوراق میں کسی سے کم نہیں ، منصور نے خصوصیت کے ساتھ سادات پر جو مظالم ڈھائے وہ سلاطین عباسیہ کی پیشانی کا بہت بڑا بدنما داغ ہیں۔ 138ھ میں حضرت عبداﷲ شاہ غازی کے والد حضرت محمد نفس ذکیہ نے نظام رسالت وخلافت راشدہ کی بحالی کیلئے تحریک کا آغاز کیا جسے تاریخ میں علوی تحریک کے نام سے جانا جاتا ہے۔ حضرت محمد نفس ذکیہ تقویٰ و پرہیز گاری کے لحاظ سے نہایت ممتاز بزرگ شمار ہوتے تھے ۔حجاز مقدس وعراق میں ہزاروں عقیدت منداِن کی آواز پر لبّیک کہتے ہوئے تھے۔ حضرت امام مالک رحمۃ ُﷲعلیہ نے آپ کی حمایت میں فتویٰ جاری کیا۔ 14 رمضان المبارک 145ھ میں مدینہ منورہ کے شمال میں جبل سلع کے قریب عباسی فوج کامقابلہ کرتے ہوئے شہید ہوئے نفس ذکیہ بہت شجاع فن حرب کے ماہر قوی وطاقتور تھے ،ایک بڑی فوج سے مقابلہ کیا حضرت محمد نفس ذکیہ نے اپنے بیٹے عبد ﷲ الاشتر کو سندھ اور بھائی حضرت سید ابراہیم کوبصرہ کی جانب روانہ کردیا تھا۔بصرہ میں سید ابراہیم کے ہاتھ پر ہزاروں لوگوں نے بیعت کی۔ بصرہ میں قیام کے دوران سید ابراہیم نے بڑی قوت حاصل کرلی آپ بصرہ سے کوفہ منتقل ہوگئے ،کوفہ میں ایک لاکھ افراد آپ کے جھنڈے تلے جمع ہو گئے بڑے بڑے علماء وفقہا نے ان کا ساتھ دیا بالخصوص امام اعظم ابوحنیفہ حضرت نعمان بن ثابت رحمۃ ُﷲعلیہ نے بھی ان کی حمایت ومالی مدد کی جنگ میں بعض مجبوریوں کی وجہ سے شریک نہ ہوسکے جس کا امام اعظم کو آخری وقت تک افسوس رہا ۔حضرت سید ابراہیم کو بھی منصور کے مقابلے میں شکست ہوئی اور سید ابراہیم شہید کردیئے گئے۔ منصور نے جنگ سے فارغ ہوکر ان لوگوں کی خبر لی جنہوں نے اس کے خلاف خروج میں کسی بھی طرح کا تعاون کیاتھا ان کے ساتھ سختی سے پیش آیا ۔کئی افراد کوقتل اور کئی کو قیدوبند کی سزائیں اور کئی کو کوڑے مارے گئے جن میں امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت بھی شامل تھے ۔بعد ازاں ابوجعفر منصور نے امام اعظم کو قیدمیں زہر دے کر شہید کروا دیا۔
حضرت عبدﷲشاہ غازی کوفہ سے ہوتے ہوئے سندھ میں ایک تاجرکی حیثیت سے پہنچ چکے تھے ۔اُس وقت سندھ میں گورنرعمر بن حفص تھا جو سادات سے بڑی عقیدت رکھتا تھا ۔اگرچہ آپ کے والد نے آپ کو خلافت علوی کے نقیب کے طور پر سندھ بھیجا تھا مگر آپ نے اپنی زیادہ توجہ تبلیغ اسلام کی جانب مرکوز رکھی مگر ایک دن موقع پاکر آپ کے ایک ساتھی نے اس وقت کے گورنرسندھ عمر بن حفص کوسادات کی حکومت کے قیام میں مدد کی دعوت دی جسے گورنر نے فوراً قبول کرلیا؛ کچھ دنوں بعد بغداد سے ایک تاجر بحری جہازکے ذریعے سندھ پہنچا جو اپنے ہمراہ گورنر کی بیوی کاخط گورنر کیلئے لایا تھا ۔جس میں اُس کی بیوی نے لکھا کہ سید محمد نفس ذکیہ اور اُن کے بھائی سید ابراہیم عباسیوں کے ہاتھوں شہید ہوچکے ہیں۔ گورنر وہ خط حضرت عبدﷲ شاہ الاشتر کے پاس لے کرگیا اور اُن سے ان کے والد اور چچا کی  شہا دت پر تعزیت و افسوس کا اظہار کیا خط وحالات سن کر آپ غمگین ہوئے تو اس موقع پر عمر بن حفص نے آپ کو حوصلہ دیتے ہوئے کہا کہ آپ رنجیدہ نہ ہوں میں آپ کو یہاں کے ایک ہندو راجہ کے پاس بھیج دیتا ہوںں جو اگرچہ اپنے ہندو نظریہ پر قائم ہے مگر رسول ﷲ ﷺ اور اُن کی آل ک ابےحد احترام کرتاہے ۔اور وہ آپ کوبڑے احترام سے رکھے گا اور وہ خودمختار ہے ۔اس لیے حکمراں اُسے کسی بات پر مجبو ر نہیں کریں گے ،الغرض گورنر سندھ کی مدد سے ساحلی ریاست (ممکنہ طور پر ساکروندی کے قریب)جانے کا فیصلہ کیا راجہ نے آپ کو خوش آمدید کہا اور انتہائی عزت واحترام کے ساتھ پیش آیا اورآپ کے مشن میں شریک سفر ہوگیا ۔تقریبا ًچار سال آپ راجہ کے مہمان رہے راجا آپ کے حسن واخلا ق و کردار سے متاثر ہوکر آپ کا نیاز مند ہوگیا اور اپنی بیٹی آپ کے عقد میں دے دی جس سے ایک بیٹا پیدا ہوا جس کانام محمد ابوالحسن رکھا ۔یہاں تقریبا ًچار سو افراد مشرف بہ اسلام بھی ہوئے ۔آپ نے اہل سندھ کے اندر دین متین کی تبلیغ کے ساتھ ساتھ ان کے معاشی اور معاشرتی حقوق اور سماجی انصاف کیلئے بھی شعور اجاگر کیا ۔
151ہجری میں ابو جعفر منصور کومعلوم ہوا کہ عبدﷲ شاہ الاشتر سندھ میں مقیم ہیں جس پر منصور کی پریشانی بڑھتی جارہی تھی ۔وہ حضرت عبد ﷲشاہ غازی کو سندھ میں عباسی حکومت کیلئے خطرہ محسوس کررہا تھا ،اُس نے گورنرعمر بن حفص سے جواب طلبی کی اور اُسے گورنرسندھ سے معزول کرکے افریقہ کاگورنر بناکر افریقہ بھیج دیا اور ہشام بن عمرو تغلبی کوسندھ کا نیا گورنر بنا کر خصوصی ہدایات کے ساتھ بھیجا کہ عبد ﷲ شاہ غازی کوگرفتار کرواور راجہ کی طرف سے کسی قسم کی رکاوٹ ہوتو راجہ کو قتل کردیا جائے مگر ہشام بن عمر وجو خود بھی سادات کا احترام کرتا اور اُن سے دلی عقیدت رکھتا تھا اور پھر عبدﷲشاہ الاشتر کی سند ھ میں غیر معمولی شہرت ومقبولیت کی وجہ سے نئے گورنر ہشام بن عمرو نے انہیں گرفتار کرنے میں تردد کاشکار رہا مختلف حیلوں اور بہانوں سے عبدﷲشاہ غازی کی گرفتاری سے متعلق ابو جعفر منصور کو ٹالتا رہا انہی دنوں میں سندھ کے ایک اور علاقے میں بغاوت ہوئی ۔جو کہ عبد ﷲ شاہ غازی کے قیام کے قریب کاعلاقہ تھا گورنر ہشام بن عمرو نے اپنے بھائی شفیع بن عمرکواُس بغاوت کو کچلنے کیلئے بھیجا۔عبدﷲ شاہ غازی بمعہ مریدوں کے سیر و شکار پرنکلے ہوئے تھے شفیع بن عمرو لشکریوں کے ہمراہ اس علاقے میں ٹھہرا ہوا تھا دور سے عبدﷲ شاہ غازی کی سواریوں سے اُٹھنے والی گرد سے اس کے دل میں خوف پیداہوا کہ دشمن کا لشکر آرہا ہے ،سپاہیوں کو حکم دیاکہ لڑائی کیلئے تیار ہوجائیں۔ جب حضرت عبد ﷲشاہ غازی قافلے کے قریب آئے تو لشکریوں نے آپ کو پہچان لیا اور شفیع کوبتایا کہ یہ تو حضرت عبدﷲشاہ غازی الاشتر ہیں یہ اہل بیت کےخاندان سے ہیں،  سابقہ گورنر عمر بن حفص نے ان کے ہاتھ پر بیعت کی ہے اور موجودہ گورنر ہشام بن عمرو بھی ان کے عقیدت مندوں میں سے ہے اور یہاں شکار کی غرض سے آتے رہتے ہیں مگر شفیع نے اپنے لوگوں کی باتوں پردھیان نہیں دیا اُس نے حضرت عبدﷲ شاہ غازی سے گرفتاری دینے یا جنگ کیلئے پیغام دیا آپ جنگ کیلئے تیار نہ تھے شفیع جو اہل بیت کے شہزادوں کی تلوار بازی کو اچھی طرح جانتا تھا ،شفیع نے اپنے لشکر کے ساتھ آپ پر یکبارگی حملہ کر دیا،آپ اپنے نو ساتھیوں کے ہمراہ تھے دونوں فریق آمنے سامنے ہوئے آپ نے بڑی جوانمردی کے ساتھ ایک بڑے لشکر کا مقابلہ کیا، باوجود اس کے کہ مقابل ایک فوجی لشکر تھا ،مگر آپ کے مختصر لشکر کے سامنے آنے کی طاقت نہیں رکھتا تھا مقابل لشکر نے ایک ساتھ آپ پر حملہ کیا آپ زخمی ہوئے شاہی لشکر کے لوگ میدان چھوڑ کر بھاگ رہے تھے کہ ایک ظالم نے پیچھے سے تلوار کاوار کرکے آپ کو شہید کردیا۔         ِِِ " اناﷲواناالیہ راجعون "
قرب وجوار کے لوگوں کوجب آپ کی شہادت کے واقعہ کا علم ہوا تو بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوگئے ادھر شفیع نے اپنے بھائی گورنر ہشام بن عمرو کو اس کی اطلاع دی گورنر کچھ بول نہیں سکا کیونکہ یہ عباسی حکمراں ابو جعفر منصور کے حکم کی بجا آوری تھی اس نے اس کی اطلاع بغداد میں ابو جعفر منصور کو دی ۔ادھر آپ کے مریدوں آپ کے جسد مبارک کو چھپا کر دور ایک اونچی پہاڑی پر لے گئے اور اسی پہاڑی پر آپ کو سپرد خاک کیا گیا۔
یہ پہاڑی کراچی کے کلفٹن کی پہاڑی ہے اس وقت یہ ایک مچھیروں کی چھوٹی سی بستی ہوا کرتی تھی کئی کئی میل کوئی آبادی نہیں تھی بحری آمدورفت بھی اُس وقت صرف "دیبل" موجودہ بن قاسم پورٹ پر ہوا کرتی تھی جو اس وقت بھی کلفٹن سے کئی کلومیٹر کے فاصلے پر ہے ۔ایک روایت یہ بھی ہے کہ آپ کا سر مبارک کو تن سے جدا کرکے بغداد ابوجعفر منصور کے دربار میں بھیجا گیا۔ پھربغداد سے مدینہ منورہ میں جنت البقیع میں مدفن کیا گیا۔آپ کی شہادت کے بعد ابو جعفر منصور کو یہ خدشہ تھا کہ لوگ آپ کے صاحبزادے محمد ابو الحسن کو آپ کا جانشین نہ بنا لیں جو آپ کے سُسر راجہ صاحب کے پاس اپنی والدہ صاحبہ کے ہمراہ مقیم تھا ہشا م بن عمر و نے 151ھ میں ہی راجہ صاحب کی ریاست پرحملہ کردیا خونریز معرکہ آرائی میں راجہ کو قتل اور ریاست پر قبضہ کرلیا گیا آپ کی اہلیہ محترمہ اور بیٹے کو پہلے بغداد پھر مدینہ منورہ بھجوادیا گیا ۔حضرت عبد ﷲشاہ غازی کا مزار کئی سوسال تک جسے مریدوں نے درختوں کی لکڑیوں و پتوں سے بنایا ہوا تھا ۔مریدین آپ کی قبر کے قریب ہی رہتے کہ کہیں عباسی (سرکاری) اہلکار جسم اطہر کو قبر سے نکال کر بغداد نہ لے جائیں یا نامعلوم مقام پر منتقل نہ کردیں۔ مریدوں کو سب سے زیادہ دِقّت یہ پیش آتی کہ وہاں پینے کا میٹھا پانی میسر نہیں تھا سمندری زمین پر پہاڑی جہاں میٹھے پانی کا ہونا ناممکن تھا ۔مریدوں کی دعاسے حضرت عبد ﷲشاہ غازی کے صدقے پہاڑی کے نیچے سے میٹھے پانی کا چشمہ جاری ہوا جو آج بھی جاری وساری ہے ۔یہ عبد اﷲشاہ غازی کی کرامت ہے۔
اہل بیت رسول آل ابراہیم واسماعیل علیہ السلام ہیں۔حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ایڑیاں رگڑنے سے عرب کے ریگستان میں"زم زم" کا چشمہ ابل آیا تھا جو آج بھی ہے یہ ﷲتعالیٰ کے برگزیدہ بندے ہیں، جو چاہیں رب سے منوا لیں اور رب کی رضا پر راضی رہے۔ چاہے کتنی بڑی آزمائش کیوں نہ آجائے ۔
آپ کا عرس مبارک ہر سال ماہ ذوالحجہ کی 20,21,22تاریخ کو بڑی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جاتا ہے ۔ آپ کی خدمات دینیہ کے پیش نظر اہل سندھ او ر دنیا بھر سے لو گ اپنی عقیدت کے اظہار کے لئے آپ کے مزار اقدس پر حاضر ہوکر شاندار ہدیہ تبریک پیش کرتے ہیں ۔
(بشکریہ ماہنامہ " تحفظ کراچی")
 حضرت عبداللہ شاہ غازی کے مزار کے موجودہ حالات:

جن لوگوں نے آج سے تین سال پہلے یہ مزار دیکھا تھا وہ اب اس مزار کو شاید پوری طرح پہچان بھی نہ پائیں کیوں کہ یہاں سب کچھ بہت تیزی سے تبدیل ہورہا ہے۔۔ایک تاریخ ہے جو آن کی آن میں کروٹ بدل رہی ہے

کراچی کے ساحل پر واقع صوفی بزرگ عبداللہ شاہ غازی کا مزار 1ہزار2سو 88 سالہ تاریخ کا امین ہے۔ جیسے جیسے ملک بدلا، حکومتیں بدلیں اور شہر نے ترقی و وسعت پائی۔۔ویسے ویسے ہی اس مزار کی عمارت بھی اپنی ہیئت تبدیل کرتی رہی۔۔ 2017  میں ایک مرتبہ پھر یہ مزار اور اس کا اطرافی علاقہ تبدیلی کے نئے عمل سے گزر رہا ہے۔

جن لوگوں نے ایک تین سال پہلے یہ مزار دیکھا تھا وہ آئندہ چند مہینوزکےبعد  اس مزار کو شاید پوری طرح پہچان بھی نہ پائیں کیوں اب مزارطکے ڈیزائن کو یکسر بدل کر جدید خطوط پر آراستہ کیاگیا ھے۔۔چند دنوں کی بات ہے۔۔پھر یہ مزار نئی شکل لے لے گا ۔۔۔اور اگر مسقبل قریب کی بات کریں تو ایسا لگتا ھے کہ غازی بابا کا مزار بلند و بالا اور جدید ترین عمارات میں گھرا نظر آئےگا۔ یہی سبب ہے کہ مزار کو مزید کشادہ کرنے اور اسے جدید ترین بنانے کے لئے نئے تعمیراتی منصوبے شروع کئے گئے ہیں۔

حکومت کے ایک افسر کے مطابق، حضرت عبداللہ شاہ غازی علیہ رحمتہ کا مزار جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔ یہاں مزار کے اندرونی حصّے سے لیکر تمام عمارت کو جدید اور بہت خوبصورت انداز سے تعمیر کیا جارہاھے ساتھ ہی مزار کے ساتھ ملحق جامع مسجد غازی بابا  کو بھی شہید کرکے نئے انداز سے تعمیر کیا گیا ھے، پوری مسجد و مزار کے عمارات میں کلوز سرکٹ کیمرے نصب کئے جا رہے ہیں۔ کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر تعمیر ہورہا ہے، جبکہ جدید لائبریری ڈسپنسری،  قرآنی نسخوں ، موئے مبارک سرکار دوعالم صلی الله عليه وسلم، جبہ مبارک، صحابہ کرام اور بزگان دین کی یادگاری اشیاء کا مثالی میوزیم اور ایک صوفی ازم کی شاندار روایات کے فروغ کے لئے ایک شاندار کانفرنس روم بھی زیر تعمیر ہیں۔

بقول ایک ذمہ دار افسر کے یہ منصوبہ تقریباً چالیس ارب روپے کاہے کو اس تعمیراتی منصوبے سے متعلق مزید تفصیلات میں بتایا ’اس منصوبے میں اسپتال، ریسرچ آفس، لنگر خانہ، شفاخانہ، بیرونِ شہر کے زائرین کے لئے ایک جدید سہولتوں سے آراستہ ایک مہمان خانہ، سمندری زمین پر کھارے پانی کے ساتھ شفایاب پانی کا میٹھا چشمے کی بیرون سجاوٹ کو بھی جدید طرز پر استوار کیا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی جدید ٹوائلٹس اور مردوں و عورتوں کے لیے الگ الگ صحن کی تعمیر شامل ہے۔ اس منصوبے پر 40ارب روپے خرچ ہوں گے۔

اس افسر نے مزید بتایاکہ ’تعمیراتی و توسیعی منصوبے پر عمل درآمد کے بعد زائرین کی گنجائش بڑھ جائے گی۔ اس طرح، بہتر انداز میں انہیں ٹریٹ اور انٹرٹین بھی کیا جاسکے گا۔ گزشتہ سالوں میں تین روزہ عرس کی تقریبات میں لاکھوں کی تعداد میں زائرین نے ملک و بیرون ملک سے مزار پر حاضری دی۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق،اس سال 2017میں مزار کے کشادہ ھوجانے کی وجہ سے پانچ لاکھ سے زیادہ زائرین کی تعداد مزار کے فیوض حاصل کرسکے گی ۔ بیک وقت اتنی بڑی تعداد میں زائرین کو سنبھالنا زیادہ جگہ میں یقینا زیادہ آسان ہوجائے گا۔ انہیں ملنے والی ہر طرح کی سہولتوں میں اضافہ ہوجائے گا۔‘

غازی بابا کے مزار کے قریب ایک 62 منزلہ جدید عمارت تعمیر
’مزار غازی‘ شاہراہ فردوسی کلفٹن پر واقع ہے۔ مزار سے صرف چند گز کے فاصلے پر پاکستان کی بلند ترین 62منزلہ عمارت ’بحریہ ٹاؤن آئیکون‘ کے نام سے زیر تعمیر ہے۔ اسے تعمیر کرنے والے ادارے بحریہ ٹاؤن کی جانب سے دی گئی معلومات کے مطابق، جس منصوبے کے تحت یہ عمارت بن رہی ہے وہ کراچی میں پاکستان کی تاریخ کا سب سے وسیع و عریض اور ملک کا سب سے پہلا میگا اسٹرکچر رکھنے والا منصوبہ ہے۔ یہ ٹیکنالوجی کے اعتبار سے پاکستان کی سب سے جدید عمارت ہوگی۔ اس کا 80 فیصد حصہ مکمل ہوگیا ہے جبکہ باقی حصہ آئندہ چند ماہ میں مکمل ہوجائے گا۔اس عمارت میں بڑے بڑے شاپنگ مالز، کارپوریٹ آفس، اپارٹمنٹس، فائیو اسٹار ہوٹل، انتہائی جدید انفراسٹرکچر اور اکیسوی صدی کی تمام آسائشات میسر ہونگی۔ جس میں فوڈ کورٹ، ریسٹورنٹس، ہیلتھ کلب، سوئمنگ پول، جیم، میٹنگ رومز، کانفرنس ہالز، چار ہزار سے پانچ ھزار گاڑیوں کے لئے پارکنگ ایریا، واٹر  فلٹریشن  پلانٹ،ہائی اسپیڈ ڈبل ڈیک ایلیویٹرز سمیت دیگر کئی حیران کن سہولتیں بھی اس عمارت میں موجود ہوں گی۔

ان سہولتوں کا ذکر اس بات کی اہمیت کو اجاگر کرنے کیلئے کیا گیا ہے کہ جہاں ایسی سہولیات ہوں وہاں بسنے اور آنے جانے والے لوگوں کی تعداد بھی یقینا لاکھوں میں ہوگی۔ اس منصوبے کی کامیابی کے بعد نئی عمارتوں اور تعمیراتی منصوبوں کی بھرمار ہوجائے گی جیسا کہ ایک اور ملٹی اسٹوری بلڈنگ بھی بہت تیزی سے تکمیل کے مراحل طے کررہی ہے اور اسے مزار کے احاطے سے بھی واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔ عنقریب ایسے اور بھی منصوبے شروع ہونے جا رہے ہیں۔ اس صورتحال میں عبداللہ شاہ غازی کا مزار ان میگا اسٹرکچرز میں’گم‘ نہیں تو گھِر ضرور جائے گا۔
سید عبدالرزاق گیلانی

No comments:

Ahle Sunnat News

بر ما کے مسلمانوں پر ظلم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پوری دنیا کی خموشی ہے

ڈاکٹر محمد عرفان اشرف قادری دنیا کے تقریبا ہر ملک میں ہی کوئی نہ کوئی بحران یا مسئلہ موجود ہے جس کی وجہ سے وہ ملک عالی سطح پر توجہ کر مرکز...